حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ممبئی/ ملک ہندوستان اپنی قدیم تہذیبی روایت "وسودھیو کٹمبکم" کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ پوری دنیا ایک خاندان ہے۔ اس بات کا اظہار پربھو کیشو چندر داس نے انٹر ریلیجس سالیڈیریٹی کونسل (IRSC) کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا، جو ممبئی پریس کلب میں 6 جنوری کو منعقد ہوئی۔ یہ پریس کانفرنس سال 2025 میں ملک ہندوستان کے مختلف حصوں میں کرسمس کی تقریبات کے دوران عیسائیوں پر ہونے والے تشویشناک حملوں کے خلاف منعقد کی گئی۔ اس موقع پر سول سوسائٹی کے نمائندے، میڈیا کے افراد اور امن پسند شہری موجود تھے۔ اجلاس کی صدارت ایڈووکیٹ عرفان انجینئر نے کی، جو سینٹر فار دی اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرزم (CSSS) کے ڈائریکٹر اور IRSC کے شریک کنوینر ہیں۔

اس پریس کانفرنس میں مختلف مذاہب اور سماجی طبقات کی نمائندگی کرنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں اسکون (ISKCON) سے پربھو کیشو چندر داس، کرسچن ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن کے پادری دیودان تری بھون، شیعہ اسلامک اسکالر مولانا روحِ ظفر رضوی، آرچ ڈایوسیزن کمیشن فار انٹر ریلیجس ڈائیلاگ کے فادر ایس۔ ایم۔ مائیکل، جماعتِ اسلامی کے رکن ہمایوں شیخ اور سماجی کارکن تشار گاندھی شامل تھے۔ سبھی مقررین نے مذہب کے نام پر پھیلائی جا رہی انتہاپسندی اور تشدد کی سخت مذمت کی۔

مقررین نے ملک کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے واقعات کی تفصیل بیان کی، جو مذہبی انتہاپسندی کی بڑھتی ہوئی لہر کو ظاہر کرتے ہیں۔ آسام کے ضلع نلباڑی کے پنی گاؤں میں واقع سینٹ میری اسکول میں توڑ پھوڑ کی گئی، کرسمس کا سامان بیچنے والی دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا، سجاوٹ جلائی گئی اور اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے۔ مدھیہ پردیش کے جبل پور میں، بی جے پی کے ایک سٹی نائب صدر نے کرسمس کی دعوت کے دوران ایک نابینا خاتون کو گالیاں دیں اور ان پر حملہ کیا۔ راجستھان کے ناگور میں کرسمس کی تقریبات کے دوران ایک اسکول میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ ممبئی کے ایک مضافاتی علاقے میں 11 دسمبر کو دو عیسائی خواتین کو پمفلٹ تقسیم کرنے پر ہراساں کیا گیا۔

یہ صرف چند واقعات ہیں، اس کے علاوہ بھی کئی مقامات پر کرسمس منانے والے عیسائیوں پر حملے کیے گئے۔ عبادتی اجتماعات میں خلل ڈالا گیا، گھروں اور بینکوئٹ ہالز پر حملے کیے گئے اور زبردستی تبدیلیٔ مذہب کے جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ کئی جگہوں پر پولیس حملہ آوروں کے ساتھ نظر آئی اور متاثرین کو ہی جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والوں نے ایک زبان ہو کر ان تمام تشدد آمیز واقعات کی مذمت کی۔ انہوں نے تمام مذاہب کے ماننے والوں سے محبت، امن اور باہمی احترام کے ساتھ رہنے کی اپیل کی۔ مقررین نے آئینی اقدار اور مذہبی آزادی کے احترام پر زور دیا اور ریاستی مشینری کی خاموشی اور ممکنہ ملی بھگت پر سوال اٹھائے۔

پادری دیودان تری بھون نے مطالبہ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے واضح اور مضبوط کردار ادا کریں۔ مولانا روحِ ظفر نے کہا کہ ایسے حملے ملک ہندوستان کے آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ہیں اور نفرت کے بجائے ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ فادر ایس۔ ایم۔ مائیکل نے نفرت انگیز تقاریر، دھمکیوں، جسمانی اور ذہنی تشدد اور جھوٹے الزامات میں اضافے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے بتایا کہ عیسائی برادری اپنے مذہبی عقائد کے مطابق بھوکے کو کھانا کھلانے، پیاسے کو پانی پلانے، ننگے کو کپڑا دینے اور پسماندہ طبقات کے انسانی حقوق کے لیے کام کرتی ہے۔ انہوں نے تبدیلیٔ مذہب کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ہندو اور عیسائی خاندانوں کے باہمی پرامن تعلقات کی مثالیں پیش کیں۔
ہمایوں شیخ نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مظلوم کی مدد اور ظالم کو ظلم سے روکنا فرض ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ واقعات مذہبی تنازعات نہیں بلکہ سیاسی مفادات کے لیے پھیلایا گیا پروپیگنڈہ ہیں، جن میں تبدیلیٔ مذہب کا جھوٹا خوف دکھایا جاتا ہے۔ انہوں نے عملی تجاویز پیش کیں، جیسے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مکالمہ، عبادت گاہوں میں مشترکہ اجتماعات اور مذہبی رہنماؤں کی جانب سے آئینی حقوق کے لیے متحد آواز۔

تشاری گاندھی نے اس بیانیے کو چیلنج کیا کہ اقلیتوں کو ہی ان پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو خاموش اکثریت ان حملوں کی مذمت نہیں کرتی، وہ بھی اس ظلم کی ذمہ دار ہے۔ خاموشی دراصل رضامندی ہے، اگر براہِ راست شمولیت نہیں تو بالواسطہ حمایت ضرور ہے۔ اپنی بات کے اختتام پر انہوں نے ملک ہندوستان کی تکثیری اور مشترکہ تہذیبی روایت کو زندہ رکھنے کے لیے ان ناانصافیوں کے خلاف مضبوط اور واضح قدم اٹھانے کی اپیل کی۔









آپ کا تبصرہ